28 اگست 2026 - 13:40
امریکی عدالت نے ٹرمپ کے نئے ڈاک ووٹنگ قوانین روک دیے

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے نئے قواعد پر عارضی طور پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے نئے قواعد پر عارضی طور پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

میساچوسٹس کی وفاقی جج انڈرا ٹالوانی نے نئے قواعد کے اہم حصوں پر 14 روز کے لیے پابندی عائد کی۔ یہ قواعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈاک ووٹنگ محدود کرنے کے حکم کے بعد جاری کیے گئے تھے۔

24 امریکی ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے ان قوانین کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قواعد طے کرنے کا اختیار امریکی پوسٹل سروس کو حاصل نہیں۔

جج نے قرار دیا کہ نئے قواعد کے نفاذ سے ریاستوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں صرف دو ماہ سے کچھ زیادہ وقت باقی ہے اور کئی ریاستیں پہلے ہی ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنے کی تیاری شروع کر چکی ہیں۔

ٹرمپ طویل عرصے سے ڈاک ووٹنگ کو انتخابی دھاندلی کا ذریعہ قرار دیتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ توقع ہے کہ امریکی محکمہ انصاف اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha